Benefits of walking
سیرسے توانائی بڑھتی ہے اور قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیر کے وقت جلد اور پٹھوں کو آکسیجن ملتی ہے۔ سیر ایسی جگہ کی جائے جو صاف ستھری ہو جہاں دھوپ اور سبزہ ہو۔ ایسی جگہ پر آکسیجن بکثرت پائی جاتی ہے۔ سیر دل اور دورانِ خون کی بیماریوں کی روک تھام میں بھی اولین اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے دل اور پھیپھڑوں کی استعداد کو تحریک ملتی ہے۔ چربی کم ہوتی ہے ‘ جس سے صحت بحال ہوتی ہے ‘ اس امر کی شہادت موجود ہے کہ سیر سے خون کی شریانوں کے تنگ حصوں میں کشادگی اگئی اور دل کے دوروں کے امکانات کم ہو گئے ‘ جو فرد سگریٹ نوشی کرتا ہواور تناﺅ کی حالت میں ہو‘ سیر اس کی خوب مدد کرتی ہے۔ اس کے خون میں غیر معمولی مقدار میں جو زہریلی کاربن مونو آکسائیڈ اور مہلک نیکوٹین شامل ہوتی ہے وہ کم ہو جاتی ہے۔ سیر خون کی شریانوں کی لچک بڑھاتی ہے جس کے نتیجہ میں اس خطرے کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے کہ خون کے دباﺅ سے شریانیں پھٹ جائیں گی اور دل کا دورہ پڑے گا۔ ورزش یا سیر نہ کرنے سے آدمی کے جسم میں چربیلے مادے (کولیسٹرول) بڑھ جاتے ہیں۔ خون کی شریانوں میں تنگی واقع ہو جاتی ہے جس سے آدمی دن بدن موٹا ہوتا جاتا ہے۔ موٹاپا بذات خود کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
No comments:
Post a Comment